بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع پنا میں قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ کھیت میں کام کرنے والے بچپن کے دو دوست ایک ہی لمحے میں خبروں کی زینت بن گئے۔ 24 سالہ ستیش کھاتک اور 23 سالہ ساجد محمد نے محنت کے دوران 15.3 قیراط کا قیمتی ہیرا دریافت کر لیا، جس کی مالیت 50 سے 60 لاکھ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔
یہ ہیرا اس زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں ملا جسے دونوں دوستوں نے چند ہفتے قبل ہی لیز پر حاصل کیا تھا۔ پنا ڈائمنڈ آفس نے جانچ کے بعد تصدیق کی کہ دریافت ہونے والا پتھر اصل ہیرا ہے، جسے جلد سرکاری نگرانی میں نیلام کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ضلع پنا میں ہر تین ماہ بعد ہیروں کی نیلامی ہوتی ہے۔ نیلامی کی رقم میں سے 12 فیصد حکومت کے پاس جاتا ہے جبکہ باقی رقم ہیرا دریافت کرنے والوں کو ملتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں دوست نہایت غریب پس منظر رکھتے ہیں—ایک قصائی کا کام کرتا ہے جبکہ دوسرا پھل فروخت کرتا ہے۔ ان کے خاندان برسوں سے کھیتوں میں ہیرے تلاش کرتے رہے، مگر دہائیوں کی محنت کے باوجود کامیابی نہ مل سکی۔ ساجد محمد کے والد کے مطابق “آخرکار قسمت نے صبر اور محنت کا صلہ دے دیا۔”
دونوں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ دولت کے بڑے خواب نہیں دیکھ رہے۔
“ہماری پہلی ترجیح بہنوں کی شادی ہے،” انہوں نے کہا۔
یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ محنت، صبر اور قسمت کبھی بھی انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔









