7

مذاکرات کامیاب ہونے کے قریب تھے لیکن امریکا نے معاہدہ توڑ دیا، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات توقعات سے کہیں زیادہ مثبت رہے، تاہم بعد میں امریکا نے طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ رابطہ اور تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کئی اہم معاملات پر پیشرفت ہوئی۔

مسعود پزشکیان کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریق قدم بہ قدم آگے بڑھے، جبکہ ایران کا بنیادی مؤقف تیل کی برآمدات اور دیگر اہم امور کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تمام معاملات میں پیشرفت کے باوجود امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خطے میں استحکام کے لیے اپنی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق 7 جولائی سے اب تک زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں میں سے 96 فیصد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

پینٹاگون نے اس سے قبل بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 427 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے حالیہ ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی ہے۔