174

کروڑ پتی ٹام گروگن مالی کامیابی کے باوجود بور ہوگئے، کام پر واپسی کا اعلان

برطانیہ کے 35 سالہ شہری ٹام گروگن نے 400 ملین پاؤنڈز کے شیئرز بیچ کر کروڑ پتی بننے کے باوجود ریٹائرمنٹ میں خوشی محسوس نہ کی اور دوبارہ کام پر واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹام گروگن نے وِنگسٹاپ یو کے میں اپنے شیئرز کا بڑا حصہ امریکا میں قائم نجی ایکویٹی فرم کو 400 ملین پاؤنڈز میں فروخت کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مالی کامیابی زندگی کے خالی پن کو پر نہیں کر سکتی، اور ریٹائر ہونے کے بعد زندگی بورنگ لگتی ہے۔

ٹام گروگن نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر بطور کنسٹرکشن ورکر 5 پاؤنڈ فی گھنٹہ کمائی کی اور بعد ازاں تقریباً 10 سال وِنگسٹاپ یو کے کے لیے کام کرتے ہوئے 57 ریسٹورینٹس قائم کیے۔ مالی کامیابی کے باوجود وہ عیش و عشرت میں اضافہ کیے بغیر کرائے کے گھر میں رہ رہے ہیں اور اپنے شریک کاروباری ہرمن سہوتا اور ساؤل لیون کے ساتھ اگلے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام کرنے اور دماغ کو چیلنج میں رکھنے کے لیے ہر روز ایک مقصد کی ضرورت ہے، اور یہ مقصد صرف دولت سے حاصل نہیں ہوتا۔ گروگن کے مطابق کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے اسٹاکس، بانڈز اور مالیاتی آلات کی دنیا میں بھی قدم رکھنا ہوگا، جو ایک بالکل نیا چیلنج ہے۔