اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو فوری ریلیف دینے سے معذرت کر لی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہے، لیکن موجودہ معاشی حالات میں فوری ریلیف دینا ممکن نہیں۔
چینی کی قیمتوں کے حوالے سے گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے الگ الگ نرخ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ریلوے میں ایک ہزار پولیس اہلکار بھرتی کیے جا رہے ہیں اور بلوچستان میں ٹرینوں کی حفاظت کے لیے 22 اہلکار تعینات ہوں گے۔
بولان اور جعفر ایکسپریس کو جلد بحال کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ معیشت کی بحالی میں ایک سال لگے گا، جبکہ قومی بچت اسکیموں میں اسلامی سرمایہ کاری کے تحت 64 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔