165

دریائے سندھ میں پانی کی شدید قلت، 25 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

دریائے سندھ میں پانی کی غیر معمولی کمی نے 25 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ انچارج کنٹرول روم کے مطابق، 2022 میں پانی کی مقدار میں 40 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جبکہ سکھر بیراج پر یہ کمی 53 فیصد تک جا پہنچی تھی۔

حالیہ صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے، کیونکہ دریائے سندھ میں پانی کی کمی 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سکھر بیراج پر یہ 69 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے، جس سے نہری نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق، دریائے سندھ میں پانی کی اتنی کمی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ نہروں میں پانی کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کے باعث گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 20 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر صرف 15 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔

اس قلت کے باعث سکھر، دادو کینال میں پانی ختم ہو چکا ہے جبکہ بیگاری کینال میں ہر طرف زمین خشک دکھائی دے رہی ہے۔