وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کوشش ہے آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو، کشکول سب توڑنا چاہتے ہیں لیکن یہ جذباتی تقریروں سے نہیں ہو گا، اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی ایک طرف ہمارا دارو مدار نہ ہو،سعودی عرب 3 ارب ڈالر سٹیٹ بنک میں ڈیپازٹ رکھے گا اور ہمیں سالانہ 3 ارب ڈالرکاتیل فراہم کریگا، پچھلے 5 دنوں میں اسٹاک ایکسچینج میں 5ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، پچھلے سال 1200 ارب کے نوٹ چھاپے گئے۔
ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی اجلا س کے دوران پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ قرضہ لینے کی وجہ ہمارا بیرونی خسارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تجارتی خسارہ گزشتہ سال 35 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ سال کا خسارہ مہینے میں ہو رہا تھا۔ قرضوں کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے تھے۔ دسمبر 2017ء میں مفتاح اسماعیل نے پالیسی بدلی اور روپے کی قدر میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ حکومت کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے تھے ۔ بجٹ کا خسارہ 4.1 فیصد لکھا گیا جو کہ سال ختم ہونے پر 6.6 فیصد ہو گیا۔ یہ سب ہونے کی وجہ سے معیشت میں بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ۔
معیشت ڈالر مانگ رہی تھی جس کی کمی تھی اس لئے ڈالر کی قیمت بڑھنا شروع ہو گئی ۔ اسد عمر نے کہا کہ پچھلے سال 1200 ارب کے نوٹ چھاپے گئے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو سہارے کی ضرور ت ہے بیل آؤٹ پیکج کے بغیر معیشت بحران سے نہیں نکل سکتی۔ میں نے وزیر خزانہ کا حلف لینے کے بعد آئی ایم ایف سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہو سکتا ہے ہمیں آپ کے پاس آنا پڑے۔ ہم نے دوست ممالک کے سامنے بھی ساری معاشی صورتحال رکھی ہم ایک طرف آئی ایم ایف اور دوسر ی طرف دوست ممالک سے بھی رابطہ کر رہے تھے۔
سعودی عرب سے ہم نے پہلے دورے میں بات کی پھر ان کا وفد پاکستان آیا اور پھر جب ہم دوبارہ وہاں گئے تو یہ فیصلہ ہوا کہ سعودی عرب 3 ارب ڈالر سٹیٹ بنک میں ڈیپازٹ رکھے گا اور ہمیں سالانہ 3 ارب ڈالرکاتیل فراہم کریگا، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی ایک طرف ہمارا دارو مدار نہ ہو ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی 2017ء میں اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 53 ہزار پوائنٹس پر تھا پھر 7 ماہ میں اس میں 15 ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے 5 دنوں میں اسٹاک ایکسچینج میں 5ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے یہ آئی ایم ایف کا 19 واں پروگرام ہے ۔ سب حکومتوں نے آئی ایم ایف سے پیکج لیا اس میں اب تحریک انصاف بھی شامل ہو جائے گی یہ نئی بات نہیں ہے لیکن اس کو آخری آئی ایم ایف پروگرام بنانا ہو گا،کوشش ہے آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو، انہوں نے کہا کہ پہلا فیصلہ گیس کی قیمتوں کا آیا ہم نے غریب کو بچانے کی کوشش کی ، غریب پر بجلی کی قیمت نہیں بڑھنے دی۔
ٹیوب ویلوں کی بجلی کی قیمت آدھی کی ۔ برآمدات کی انڈسٹری پر بجلی کی قیمت کم کر دی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ہم نے سی پیک کو اگلے مرحلہ میں لے کر جانا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشکول سب توڑنا چاہتے ہیں لیکن یہ جذباتی تقریروں سے نہیں ہو گا، اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔









