اسلام آباد۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی طرف سے انتخابی بائیکاٹ کے خلاف دوٹوک اور واضح موقف سامنے آنے پر عام انتخابات 2018ء سے مسلم لیگ(ن) کے بائیکاٹ کی تمام افواہیں دم توڑ گئیں،انتخابی بائیکاٹ کے آپشن کی اطلاعات اچانک بغیر کسی معتبر حوالے کے گردش کرنے لگی تھیں، پاکستان مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت نے کسی بھی صورت میں انتخابی میدان کسی کے لیے کھلا نہ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔
سیاسی اور جمہوری حلقوں میں بھی پاکستان مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت کے ہر صورت میں انتخابی میدان میں موجود رہنے کے موقف کو پذیرائی مل رہی ہے جبکہ انتخابات کے بارے میں بھی حالیہ سروے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ووٹ بینک میں مزید اضافہ کا پتہ دے رہے ہیں اس صورتحال کا بھی سابقہ حکومتی جماعت کو ادارک ہے یہ بات بھی پیش نظر ہے کہ ماضی میں جن پارٹیوں نے انتخابی بائیکاٹ کیا وہ بڑے نقصان کا شکار ہوئیں اور طویل عرصہ کے لئے سیاسی میدان سے باہر ہو گئیں تھیں۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، پارٹی صدر شہباز شریف ،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت سابقہ حکمران جماعت کے دیگر رہنماؤں کی طرف سے تمام تر مشکلات کے باوجود کسی بھی موقع انتخابات کے بائیکاٹ کا اشارہ یا عندیہ نہیں دیا گیا اچانک انتخابی بائیکاٹ کے آپشن کی اطلاعات بغیر کسی معتبر حوالے کے گردش کرنے لگی تھیں ۔گزشتہ روز مریم نواز شریف کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے کے واضح اور دو ٹوک موقف کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) کے بائیکاٹ کی خبریں دم توڑ گئیں۔اس تمام تر صورتحال کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سامنے اپنی ماضی کی انتخابی سرگرمیاں بھی پیش نظر ہیں جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے مسلم لیگ(ن) کو 2002ء کے انتخابات سے باہر کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی گئیں ۔
2002ء میں نیب کے ذریعے مسلم لیگ(ن) کو توڑا گیا انتخابی سرگرمیوں کے لیے مساوی مواقع نہ ملنے کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے انتخابی میدان میں موجود رہی اندازہ تھا کہ کم نشستیں ملیں گی تاہم انتخابات میں حصہ لیا گیا اور قومی اسمبلی کی 15 نشستیں حاصل کیں. اسی طرح پاکستان مسلم لیگ(ن) نے پارٹی قائد نواز شریف کی قیادت میں 2008ء میں آل پارٹیز ڈیموکریکٹ الائنس کا حصہ ہوتے ہوئے اتحاد کے انتخابی بائیکاٹ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔
جن پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا وہ بڑے نقصان کا شکار ہوئیں اور سیاسی میدان سے باہر ہو گئیں تھیں۔ اے پی ڈیم اے نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی نگرانی میں انتخابات کے پیش نظر عام انتخابات 2008کا بائیکاٹ کر دیا تھا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں میں پاکستان تحریک انصاف بھی شامل شامل تھی 2008میں اتحاد کے فیصلے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) نے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا تھا اور کسی کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑا تھا۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جب موجودہ سے بھی زیادہ سخت حالات اور مشکلات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ڈٹ کر انتخابات میں حصہ لیا تو اب تو اس قسم کا انتخابی بائیکاٹ کا آپشن ہو بھی نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے واضح کر دیا ہے کہ پارٹی میں کسی بھی سطح پر انتخابی بائیکاٹ کی بات ہوئی نہ اس قسم کی سوچ پائی جاتی ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ امور سیاست کے ماہرین اور انتخابی سائنس کا ادارک رکھنے والے حلقوں کے مطابق انتخابات میں سٹیبلشمنٹ کی ہمنوا جماعت کا راستہ ہموارکرنے کے لئے بعض جماعتوں میں بائیکاٹ کے آپشن کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے









