2

حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو وزیراعظم خود دعوت دیں: محمود خان اچکزئی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر حکومت سیاسی مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو وزیراعظم خود اپوزیشن کو دعوت دیں، مذاکرات کا مذاق اڑانے والوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور دیگر نے موجودہ سیاسی صورت حال پر پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے پارلیمنٹ کی خودمختاری، سیاسی مذاکرات، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمانی تقاریر کا ریکارڈ محفوظ رکھنا آئینی تقاضا ہے تاکہ عوام فیصلہ کر سکیں کہ ان کے منتخب نمائندے کیا کہتے ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمانی تقاریر قوموں کی تاریخ محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، تاہم پارلیمنٹ میں اپنے حقوق کے لیے بھی ارکان کو جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے اختیارات قوانین کے مطابق استعمال ہونے چاہئیں اور ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے میں یکساں اصول اپنائے جانے چاہئیں۔

اپوزیشن لیڈر نے اپنی گزشتہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی، تاہم ان کی ساڑھے چار منٹ کی تقریر کو نو منٹ میں پیش کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تقریر میں ایک لفظ بھی ملک کے خلاف نہیں تھا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی مذاکرات کے لیے بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اپوزیشن کی سنجیدگی کے باعث مولانا فضل الرحمان بھی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ ان کے مطابق اب حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات چاہتی ہے یا نہیں، اور اگر سنجیدہ ہے تو وزیراعظم خود دعوت دیں۔

انہوں نے موجودہ حکومت پر عائد کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن غیر جمہوری نظام کے خلاف جمہوری انداز میں جدوجہد جاری رکھے گی اور ملک میں مضبوط پارلیمنٹ اور اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

قانون کی حکمرانی کے بغیر بحران حل نہیں ہوسکتا، راجہ ناصر عباس

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں ترقی، سیاسی استحکام اور معاشی بحران کے حل کے لیے قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے انصاف ضروری ہے، جبکہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان اس وقت انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال کے باوجود جعلی مقدمات اور ایف آئی آرز کا سلسلہ جاری ہے۔

راجہ ناصر عباس نے 8 فروری 2026 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کے حق کو متاثر کرنا آئین اور قانون پر حملے کے مترادف ہے۔

خلوص نیت سے مذاکرات کیے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسمبلی کے تین سال گزرنے کو ہیں، لیکن انہیں آج تک ریاست سے وفاداری کا فارمولا سمجھ نہیں آیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ پاکستان اور ریاست سب سے مقدم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں ہونا چاہیے جس سے انہیں ریاست کا وفادار نہ سمجھا جائے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق پارٹی نے حکومت کے ساتھ خلوص نیت اور بغیر کسی شرط کے مذاکرات کیے، لیکن اس عمل کے دوران ان کی حکومت ختم ہوگئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ، تین بہنیں، بھتیجا اور کزن جیل میں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سیاسی خاندان کے افراد کو جیل میں رکھنے کی وجوہات کیا ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹیرینز کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کو آزادی سے عوام کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی تختیاں توڑنے جیسے اقدامات عوام میں نفرت پیدا کرتے ہیں اور سیاسی اختلافات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی حمایت، سیاسی انتقام کی مخالفت

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اسے ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہونی چاہئیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نفرت انگیز سیاسی بیانیے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرتی ہے، لیکن سیاسی انتقام کی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام خود فیصلہ کریں گے کہ سیاسی بنیادوں پر تبادلے اور پارٹی سے متعلق نشانات کو ہٹانے جیسے اقدامات کا مقصد کیا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں جمہوریت، پارلیمانی خودمختاری، قانون کی حکمرانی اور سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔