3

مذاکراتی کمیٹی کے پی کی نمائندگی کیلیے علی امین کو شامل کرے، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی

پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی نے حکومت سے مذاکرات کے عمل میں صوبائی نمائندگی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا نام مذاکراتی ٹیم کے لیے تجویز کردیا۔

صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا گیا کہ مذاکرات سمیت ہر اہم حکمت عملی میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اکثریتی رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں خیبرپختونخوا کی جانب سے نمائندے کے طور پر شامل کیا جائے۔

پارلیمانی پارٹی نے واضح کیا کہ آئینی طور پر محمد سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ جبکہ پارٹی فیصلے کے مطابق جنید اکبر صوبائی صدر ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان آئینی اور تنظیمی عہدوں سے متعلق نہ کوئی قانونی و آئینی فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

سلمان اکرم راجہ کے بیان پر تشویش

صوبائی پارلیمانی پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔

اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ اراکین نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سلمان اکرم راجہ اپنا بیان واپس لیں اور صوبائی پارلیمانی پارٹی سے معذرت کریں۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا

پارلیمانی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا کی منتخب صوبائی حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ اعلامیے میں اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا۔

اجلاس میں پارٹی قیادت اور ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فوری طور پر واضح اور مؤثر احتجاجی لائحہ عمل دیا جائے، تاکہ موجودہ صورت حال کے خلاف سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو منظم کیا جا سکے۔

عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ صوبے کے آئینی، جمہوری اور انتظامی حقوق کے تحفظ، منتخب قیادت اور کارکنوں کی بازیابی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

پارلیمانی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام سیاسی، قانونی اور جمہوری کوششیں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائیں گی۔

اجلاس کے اعلامیے میں مرکزی قیادت پر زور دیا گیا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کو فیصلہ سازی اور مذاکرات کے عمل میں مؤثر نمائندگی دی جائے، تاکہ خیبرپختونخوا سے متعلق معاملات پر پارٹی کا مؤقف مناسب انداز میں پیش کیا جا سکے۔