3

اپ ڈیٹ: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ، امیر مقام، رانا ثناءاللہ، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیف سیکرٹری، آئی جی اور کور کمانڈر پشاور نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے کی سیاسی صورتحال اور حالیہ سکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے پر متفقہ اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبر پختونخوا کو جلتا چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، اور مجبوری کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا کیونکہ پچھلے چند برسوں میں جو حالات پیدا کیے گئے اس کی وجہ سے صوبہ شدید متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار اٹھارہ تک بہادر سکیورٹی فورسز نے ملک سے دہشتگردی کا قلع قمع کر دیا تھا، تاہم پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دہشتگردوں کو دوبارہ بلایا گیا اور تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ ماضی کی صوبائی حکومت نے پولیس کی پانچ ہزار اسامیاں پر نہیں کیں، سیف سٹی کا منصوبہ نامکمل چھوڑا گیا، اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشتگردی کے لیے ملنے والے آٹھ سو ارب روپے کے باوجود سکیورٹی فورسز کو جدید اسلحہ اور تربیت فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کے منصوبے میں ایک سو ارب روپے، کوہستان میگا اسکینڈل میں سینتیس ارب روپے اور پلیسر گولڈ پروجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کی کہانیاں سامنے آئیں، اور آئین و قانون ہمیں صوبے میں یہ قدم اٹھانے کا مکمل اختیار دیتا ہے۔

وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور صوبے کی پولیس، سیف سٹیز اور سی ٹی ڈی کے لیے جو کچھ چاہیے وفاق فراہم کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل کے تعاون سے صوبے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لایا جائے گا اور خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں کے ہم پلہ ترقی دی جائے گی۔ اس موقع پر اتحادی قیادت بالخصوص صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف کا شکریہ ادا کیا گیا۔ دریں اثنا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام اور دہشتگردوں و ان کے سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، اور تمام اداروں کے ایک صفحے پر ہونے سے ہی صوبے کو امن اور ترقی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔