پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج یا کل اسلام آباد کے لیے اعلان کردہ اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دے گی کیونکہ ان کے پاس مارچ کی کوئی تیاری نہیں ہے اور پارٹی کے آدھے سے زیادہ رہنما خود ساختہ روپوشی اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چالیس پچاس لاکھ افراد کو اکٹھا کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو ان کے رہنماؤں کو اپنے حلقوں میں عوام کو متحرک کرنا چاہیے تھا، جب کہ وہ اسلام آباد کے کیفیز میں بیٹھ کر گپیں مار رہے ہیں۔
دوسری جانب ستائیس ستمبر کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے متوقع لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ احتجاج ہر صورت پُرامن طریقے سے جاری رہے گا۔ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے سوال پر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں ہوئی، البتہ وفاقی حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گورنر نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کو "ٹائیگر فورس" بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور مجوزہ قانون کے تحت وزیراعلیٰ کی جانب سے ڈی ایس پی بھرتیوں اور افسران کے تبادلوں میں من مانی کے اختیارات مانگے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اس نئے مسودے کے تحت پولیس کے انتظامی اور آپریشنل اختیارات میں حکومتی مداخلت بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جس پر گورنر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس قانون کو موجودہ شکل میں منظور نہیں کریں گے۔ موجودہ سیاسی کشمکش اور حکومتی بیانات کی تازہ ترین اور لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذرائع انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔









