پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے نظام کی خرابیوں اور اس کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کے خطرے پر ہونی چاہیے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اپنی رائے ہے جبکہ وہ اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر یا حکومتی نمائندے کے ساتھ پارلیمنٹ میں بحث کیلئے تیار ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کئی دہائیوں سے نظام سے متعلق مسائل کا سامنا ہے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل، ان کی وجوہات اور نظام کی کمزوریوں پر توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو ایسے معاملات پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے چاہئیں۔ بلاول بھٹو کے مطابق محسن نقوی کو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے فورمز کے بجائے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا چاہیے تاکہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر باقاعدہ اور تفصیلی بحث ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے، جبکہ کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کیلئے اس کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔
نئے انتظامی یونٹس پر محسن نقوی کا مؤقف
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نظام حکمرانی کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
محسن نقوی کے مطابق اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کی خواہش اور آواز کی عکاسی کرتے ہیں تو کوئی فرد یا سیاسی جماعت انہیں روک نہیں سکتی۔
اپوزیشن سے رابطوں پر بلاول کا مؤقف
بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں نہ ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے پارٹی کے تحفظات تھے اور ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن سے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت دی ہے۔









