7

بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سے کینسر کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے، برطانوی تحقیق

آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی اور وسیع طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کی عادت انسان کو غذائی نالی کے کینسر جیسے جان لیوا مرض کا شکار بنا سکتی ہے۔ یہ اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے، جس کے نتائج 'انٹرنیشنل جرنل آف کینسر' میں شائع ہوئے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران گرم مشروبات پسند کرنے والے تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا، اور ان کی صحت کا جائزہ 14 سال سے زائد عرصے تک لیا گیا تاکہ طویل المعیاد اثرات کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ محققین نے شرکاء سے ان کی ترجیحات کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں کہ آیا وہ بہت زیادہ گرم، معتدل گرم، نیم گرم یا ٹھنڈے مشروبات پینا پسند کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ 70 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سے غذائی نالی کے کینسر کی ایک مخصوص قسم 'ایس سی سی'  سے متاثر ہونے کا خطرہ تین گنا تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ دوسری قسم 'اے سی'  پر اس کا ایسا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا۔

اس سے قبل 2016 میں عالمی ادارہ صحت سے منسلک 'انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر' نے بھی یہ انتباہ جاری کیا تھا کہ زیادہ درجہ حرارت والے مشروبات غذائی نالی کے خلیات کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ برطانوی محققین نے مشورہ دیا ہے کہ اس جان لیوا خطرے سے بچنے کے لیے چائے یا کافی کو براہِ راست حد سے زیادہ گرم پینے کے بجائے کچھ دیر ٹھنڈا کر کے پینے کو اپنی عادت بنایا جائے۔ تاہم، ماہرین نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس ضمن میں حتمی وجوہات جاننے اور مزید تصدیق کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔