9

اے این پی کی سینیٹر عابد شیر علی کے خلاف سخت تنقید، ایمل ولی خان پر ذاتی حملوں کی مذمت

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر عابد شیر علی کی جانب سے پارٹی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کے خلاف غیر مہذب، اشتعال انگیز اور شخصی حملوں پر مبنی طرزِ گفتگو پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت اور انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔

ترجمان اے این پی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ قائمہ کمیٹیاں قومی مسائل پر سنجیدہ بحث، احتساب اور قانون سازی کے لیے آئینی پلیٹ فارم ہیں، اور انہیں ذاتی دشمنی، سیاسی تضحیک یا بازاری زبان کا اکھاڑہ بنانا پورے پارلیمانی نظام کے وقار کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف رائے ہر سیاستدان کا حق ہے، لیکن اختلاف کی آڑ میں بدزبانی اور کردار کشی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ عابد شیر علی کو دوسروں کی سیاسی شناخت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنی ذاتی سیاسی تربیت، زبان اور جمہوری کردار کا خود جائزہ لینا چاہیے۔

انجینئر احسان اللہ خان نے اے این پی کی شاندار سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹر ایمل ولی خان اس درخشاں روایت کے امین ہیں جس نے باچا خان کی قیادت میں برطانوی استعمار کا عدم تشدد کے فلسفے کے تحت مقابلہ کیا، اور خان عبدالولی خان سے لے کر اسفندیار ولی خان تک جمہوریت، وفاقیت، آئینی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور مظلوم قومیتوں کے حقوق کی خاطر طویل قید و بند اور ناقابلِ فراموش جدوجہد برداشت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی ورثے سے سیاسی اختلاف تو رکھا جا سکتا ہے، مگر گھٹیا دشنام طرازی سے اس تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔

اے این پی کے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ پارٹی کی روایتی شائستگی اور تحمل کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ ہم سیاسی مخالفت کا جواب دلیل، تاریخ اور مہذب جمہوری زبان میں دینا بخوبی جانتے ہیں، تاہم اپنے قائدین اور بزرگ اکابرین کی توہین پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ اور متعلقہ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سے فوری مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر پارلیمانی اور ناشائستہ رویے کا سخت نوٹس لیں اور سینیٹر عابد شیر علی کو اپنے نامناسب رویے پر ایوان سے غیر مشروط معذرت کرنے کا پابند بنائیں، کیونکہ پارلیمان کا وقار اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے جب اس کے معزز ارکان خود پارلیمانی آداب اور جمہوری حدود کی سختی سے پابندی کریں۔