131

مسائل حل کیلئے پولٹیکل انتظامیہ کو بااختیار بنا دیا ہے ٗ گورنر

پشاور ۔ گورنرخیبرپختونخوا انجینئراقبال ظفرجھگڑا نے کہا کہ قبائلی عوام کے تعاون اور قربانیوں کی بدولت پاک فوج کے کامیاب ضرب عضب اورردالفساد کے باعث پورا ملک باالعموم اورقبائلی علاقے باالخصوص ایک بار پھر امن کاگہوارہ بن چکے ہیں۔95فیصد ٹی دی پیز کو واپس اپنے علاقوں میں لے جاکر دوبارہ آباد کیاگیاہے جبکہ قبائلی علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں لانے کیلئے معمول کے اے ڈی پی کے علاوہ ایک ہزار ارب روپے کے دس سالہ ترقیاتی پیکج کی منظوری بھی دی جاچکی ہے ۔

جس پرقبائلی عوام اورنمائندوں وملکان کی مشاورت سے عمل درآمد کیاجائیگا وہ کمانڈاینڈسٹاف کالج کے ایک وفد سے اظہارخیال اورسوالوں کے جواب دے رہے تھے۔قبل ازیں لاء اینڈآرڈر فاٹا نے وفد کو فاٹا کی صورت حال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اے سی ایس فاٹابھی اس موقع پر موجود تھے۔گورنر نے کہا کہ فاٹا کے علاقوں میں کامیاب فوجی آپریشنوں کے بعد نوگوایریاز ختم کئے جاچکے ہیں اور عوامی مسائل کے حل کیلئے پولٹیکل انتظامیہ کو دوبارہ بااختیار بنادیا گیا ہے جوجرگہ سسٹم کے ذریعے عوامی مسائل ومشکلات کے حل کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں۔

گورنر نے کہا کہ قبائلی علاقے پرامن ہیں۔انتہاپسندی کی ہرعالمی وعلاقائی حالات وواقعات کے تناظر میں آئی تھی تاہم قومی ا تحاد واتفاق اورسیاسی وعسکری قیادت کی ہم آہنگی کے باعث تمام ترحالات پرقابو پالیا گیا اورآج انتہاپسندی اوردہشت گردی سے ملک کونجات دی گئی ہے۔گورنر نے کہا کہ قیام امن کے بعد اب قبائلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز کردیاگیا ہے اوسرمایہ کاری کیلئے فضاسازگار ہے۔

گورنر نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کوروزگار کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں اورمختلف شعبوں میں انہیں ہنر مندبنایا جارہا ہے تاکہ وہ خودروزگاری کی جانب بڑھ سکیں اوراپنے خاندانوں کے کفیل بنیں۔ بعدازاں گورنر نے کورس کے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کیے۔