اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے متعلق 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کرتے ہوئے گندم کی فراہمی، پٹرولیم مصنوعات کی درآمد، روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو ترقی سمیت متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔
وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی نے پاسکو کے گندم ذخائر تمام وصول کنندہ اداروں کو 85 فیصد مقامی اور 15 فیصد درآمدی گندم کی شرح سے فراہم کرنے کی منظوری دی۔ یہ تجویز پاسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش پر پیش کی گئی تھی۔
اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات غیر ملکی سپلائرز کے اکاؤنٹ پر کسٹمز بانڈڈ اسٹوریج سہولیات کے ذریعے درآمد کرنے کی تجویز بھی منظور کرلی گئی۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں پٹرولیم کی مضبوط اور پائیدار سپلائی چین کو یقینی بنانا ہے۔
ای سی سی نے پاکستان اور سلطنت عمان کے درمیان پہلے طے پانے والے بین الحکومتی معاہدے کی روشنی میں سیل پرچیز ایگریمنٹ کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد او کیو ٹریڈنگ اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو ترقی کے معاملے پر یونین کے ساتھ مذاکرات اور تصفیے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے پی آئی اے آئی ایل اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان طے شدہ ٹرم شیٹ کی بنیاد پر 153.855 ملین امریکی ڈالر کی حکومتی ضمانت کی منظوری بھی دے دی۔
دوسری جانب گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے فور منصوبہ) کے لیے 7 ارب 79 کروڑ 71 لاکھ 60 ہزار روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کرلی گئی۔
اجلاس میں فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) کے لیے 56 کروڑ 70 لاکھ 32 ہزار روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی، جس کا مقصد ریکوڈک منصوبے سے متعلق سرگرمیوں کی سکیورٹی کو مؤثر بنانا ہے۔









