عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر رہنما اور سینئر سیاستدان حاجی غلام احمد بلور کی حال ہی میں شائع ہونے والی سوانح عمری "میں کیوں نہیں ٹوٹا؟" صرف ایک فرد کی آپ بیتی نہیں، بلکہ پاکستان میں جمہوری جدوجہد، سیاسی انتقام اور آئین کی پامالی کے سیاہ و سفید رخ پر مبنی ایک جامع دستاویز ہے۔ یہ داستانِ عزیمت ایک ایسے بہادر سیاستدان کے ارد گرد گھومتی ہے جس کے گھر سے سگے بیٹے، بھائی اور بھتیجے سمیت تین شہیدوں کے جنازے اٹھے اور خود بھی متعدد قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے، مگر ان کے قدم کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔
اس کتاب کو ڈاکٹر محمد سہیل خان نے حاجی بلور کی 36 گھنٹے پر مشتمل ریکارڈنگز سے دو سال کی محنت کے بعد ترتیب دیا ہے۔ کتاب کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ہمارے سیاسی طبقے اور ریاستی اداروں نے ماضی کے تلخ تجربات اور غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج بھی طاقت کے استعمال و سیاسی انتقام کے اسی پرانے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔
شاہ رخ خان کے والد اور خان قیوم خان کا دورِ حکومت
کتاب میں ماضی کے ایسے کئی حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں جو تاریخ کے پسِ پردہ چلے گئے تھے۔ حاجی بلور کے والد بلور دین پشاور کی ایک ممتاز کاروباری شخصیت تھے۔ ان کے گہرے دوستوں میں معروف بھارتی اداکار شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان بھی شامل تھے، جو خدائی خدمتگار تحریک اور انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد، سابق کانگریسی رہنما خان عبدالقیوم خان صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے ماضی کے اپنے ساتھیوں کے خلاف شدید انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ پشاور میں دفعہ 144 کے نفاذ اور 1948ء کے المناک "بابڑا واقعے" کے بعد خدائی خدمتگاروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے تنگ آ کر تاج محمد خان اپنے خاندان سمیت دہلی منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔
سیاست میں آمد اور مفتی محمود کا تعاون
حاجی بلور نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1964ء میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں جلسوں میں پانی پلانے سے کیا۔ بعد ازاں، خان عبدالولی خان کی فکر سے متاثر ہو کر 1969ء میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔
1970ء کے انتخابات کے بعد نیپ نے جے یو آئی کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنائی اور مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ بنے۔ 1975ء میں حاجی بلور جب پہلی بار سینیٹر منتخب ہوئے، تو انہی درویش صفت مولانا مفتی محمود نے بغیر کسی لالچ یا مفاد کے اپنی پارٹی کے دو ووٹ دے کر ان کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا—ایک ایسا اخلاقی معیار جو آج کی سیاست میں نایاب ہے۔
آئین کی تشکیل، لیاقت باغ کا واقعہ اور نیپ پر پابندی
حاجی بلور کے مطابق، تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر 1973ء کا آئین تشکیل دیا، لیکن طاقت کے مرکز نے جلد ہی اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں مشترکہ اپوزیشن کے جلسے پر فائرنگ کے بعد، پشاور یونیورسٹی میں حیات محمد خان شیر پاؤ کے قتل کے المیے کا تمام تر ملبہ نیپ پر ڈال دیا گیا اور سپریم کورٹ کے ذریعے پارٹی پر پابندی لگا کر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
تاریخ سے کیا سبق ملا؟
کتاب کے اختتامی صفحات میں اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو دو صوبوں میں نیپ کی منتخب حکومتوں کو برداشت کر لیتے، تو نہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل ٹوٹتا اور نہ ہی انہیں خود تختہ دار پر چڑھنا پڑتا۔
"میں کیوں نہیں ٹوٹا؟" دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی جمہوریت زخموں اور بیساکھیوں کے باوجود آج بھی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کتاب موجودہ سیاسی قیادت اور اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ طاقت کے استعمال اور انتقام کے دائرے سے نکل کر تاریخ سے سبق حاصل کریں۔









