اسلام آباد: پاکستان میں تیز رفتار 5G Internet سروس کے آغاز کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا، تاہم ملک بھر میں جدید نیٹ ورک کی فراہمی کے لیے اہم چیلنجز بھی سامنے آ گئے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق فائیو جی سروس کی مؤثر اور مستحکم فراہمی کے لیے ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ حکام نے انکشاف کیا کہ 15 لائسنس ہولڈرز میں سے صرف 40 فیصد کمپنیوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں ٹاورز نصب کیے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ 15 میں سے صرف 9 کمپنیوں نے عملی طور پر ٹاورز کی تنصیب کا آغاز کیا، جبکہ صرف 6 لائسنس ہولڈرز ایسے ہیں جنہوں نے 50 یا اس سے زائد ٹاورز لگائے۔
اتھارٹی نے غیرفعال کمپنیوں کا نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کر لی ہیں، جس کے لیے 18 مئی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے نے حال ہی میں ملک میں 5G Technology کے آغاز کے لیے موبائل کمپنیوں کو باضابطہ لائسنس جاری کیے تھے، جس کے بعد پاکستان ڈیجیٹل ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا۔
دوسری جانب Jazz 5G Service نے سبقت لیتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں ملک کے 180 مقامات پر فائیو جی سروس فعال کر دی ہے، جس سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی نئی سہولت میسر آنا شروع ہو گئی ہے۔








