51

جاز کا پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز کا اعلان، جون یا جولائی سے رول آؤٹ متوقع

اسلام آباد: پاکستان کی بڑی ٹیلی کام کمپنی جاز نے ملک میں فائیو جی سروس کے کمرشل آغاز کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جبکہ فائیو جی کا رول آؤٹ جون یا جولائی سے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جاز کے صدر کاظم مجتبیٰ نے صحافیوں کو غیر رسمی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی آئندہ تین سال میں فائیو جی نیٹ ورک کے لیے مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس میں سپیکٹرم فیس بھی شامل ہوگی۔

ان کے مطابق جاز حکومتی ہدف سے زیادہ تیزی سے فائیو جی سروس متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم ملک کے بڑے شہروں میں مکمل اپ گریڈیشن ایک مرحلے میں ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں ہزاروں موبائل سائٹس کی بیک وقت اپ گریڈیشن میں وقت درکار ہوگا۔

کاظم مجتبیٰ نے بتایا کہ فائیو جی ٹرائلز کے لیے 180 موبائل سائٹس پر پہلے ہی آزمائشی سروس چلائی جا رہی ہے، جبکہ مئی کے آخر تک نیا نیٹ ورک ایکوپمنٹ پاکستان پہنچ جائے گا۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ ایک سال کے اندر دو سے ڈھائی ہزار موبائل ٹاورز کو اپ گریڈ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جاز نے سپیکٹرم نیلامی میں 2600 میگاہرٹز کے پرائم بینڈ میں 70 میگاہرٹز سپیکٹرم حاصل کیا ہے، جو فائیو جی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے کے لیے مزید سپیکٹرم کا حصول ناگزیر تھا۔

مزید بتایا گیا کہ نئے ریڈیو ایکوپمنٹ کی تنصیب سے نہ صرف فائیو جی سروس شروع ہوگی بلکہ فور جی انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی تقریباً دوگنا اضافہ ہوگا، جس سے صارفین کی شکایات میں کمی آئے گی۔

جاز نے دیہی علاقوں میں سروس بہتر بنانے کے لیے 700 میگاہرٹز بینڈ میں بھی سپیکٹرم حاصل کیا ہے، جسے “گولڈ سپیکٹرم” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ مستقبل کی ضروریات کے لیے 2300 میگاہرٹز بینڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔

کاظم مجتبیٰ کے مطابق پاکستان میں موبائل ڈیٹا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں فی صارف اوسطاً 8 سے 10 جی بی ڈیٹا استعمال کیا جا رہا ہے، اور ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے باعث طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جاز فائیو جی کے لیے الگ ٹیرف متعارف نہیں کرائے گا، اور فور جی و فائیو جی دونوں کے پیکجز ایک جیسے رہیں گے تاکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔