ضلع جنوبی پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ اور خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنما سمیت 8 خواتین کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔
پولیس کے مطابق عورت مارچ کی رہنما شیما کرمانی، منیزہ احمد اور خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنما شہزادی رائے سمیت دیگر خواتین پریس کانفرنس کے لیے پریس کلب پہنچی تھیں، تاہم میڈیا سے گفتگو سے قبل انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امن و امان کی صورتحال کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا۔ حراست کے دوران خواتین پولیس اہلکاروں نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تمام خواتین کو قریبی تھانے منتقل کیا۔
اس دوران شیما کرمانی نے گرفتاری پر شدید احتجاج کیا اور اپنی گاڑی پریس کلب کے گیٹ پر روک کر کارروائی کی مذمت کی۔ بعدازاں انہیں بھی حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث پریس کلب کے باہر رش اور کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
بعد میں سندھ حکومت کی مداخلت پر تمام زیر حراست خواتین کو رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ پریس کلب پہنچ گئیں۔









