41

گنشال وادی، بونیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا جامع سائنسی جائزہ شروع

پشاور: نیشنل سنٹر آف ایکسیلنس ان جیالوجی  نے حکومتِ خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ضلع بونیر کی گنشال وادی میں لینڈ سلائیڈنگ اور اس کے مقامی آبادی پر اثرات کا تفصیلی مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ یہ اہم اقدام وزیر برائے ایکسائز، جناب فخر جہاں کی سفارش پر عمل میں آیا۔

ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی کی قیادت میں ٹیم نے گنشال وادی کا دورہ کیا اور قدرتی آفات سے متاثرہ مقامات کا فیلڈ سروے اور تکنیکی جائزہ لیا۔ ٹیم میں ارضیات، جیو فزکس،جی آئی ایس ریموٹ سینسنگ اور جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ کے ماہرین شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق، جائزے میں لینڈ سلائیڈنگ، ڈھلوانوں کی غیر مستحکمی اور مقامی آبادی کو لاحق خطرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ لینڈ سلائیڈنگ وادی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں شمار کی جاتی ہے، کیونکہ یہ گھروں، زرعی زمینوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور مقامی زندگی اور معیشت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

این سی ای جی کی ٹیم نے زمینی ساخت کی نقشہ سازی، جیو فزیکل تجزیہ اور ڈھلوانی استحکام کے جائزے کے ذریعے حساس مقامات کی نشاندہی کی اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی وجوہات جانچی۔ اس مطالعے میں فلیش فلڈز، کٹاؤ اور دیگر متعلقہ خطرات کے مقامی کمیونٹی اور ماحولیاتی استحکام پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ یہ سائنسی جائزہ آفات کی روک تھام، خطرات میں کمی اور طویل مدتی تدارکی حکمت عملی کے لیے عملی اور پائیدار سفارشات فراہم کرے گا۔ ان کی ٹیم کے اقدامات نہ صرف مقامی انفراسٹرکچر کے تحفظ اور زندگی کے معیار میں بہتری میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ علاقے میں ترقی اور ماحولیاتی سیاحت کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔