56

خبردار: ہنٹا وائرس چوہوں سے پھیلتا ہے:

 ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ہنٹا وائرس ایک ایسا جرثومہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے پھیلتا ہے اور انسانوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ وائرس چوہوں کو بیمار نہیں کرتا، مگر انسانوں میں دو طرح کی خطرناک بیماریاں پیدا کر سکتا ہے۔ امریکا اور کینیڈا میں ہنٹا وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے جس میں شرح اموات تقریباً 40 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں یہ گردوں کی خرابی اور خون بہنے والے بخار کا سبب بنتا ہے، جس میں شرح اموات ایک سے پندرہ فیصد تک ہوتی ہے۔

ابتدائی علامات ایک سے آٹھ ہفتوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں اور عام وائرل انفیکشن سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ مریض کو تیز بخار، کپکپاہٹ، سر درد اور جسم کے پٹھوں میں شدید درد محسوس ہو سکتا ہے۔ پھیپھڑوں والی قسم میں چار سے دس دن میں خشک کھانسی اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہو جاتی ہے، جبکہ گردوں والی قسم میں بلڈ پریشر کم، خون بہنا اور گردے ناکام ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے صفائی کے دوران احتیاط کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، وہاں جھاڑو یا ویکیوم کلینر استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے وائرس ہوا میں اڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ بلیچ کے محلول سے جگہ گیلا کریں اور دستانے و ماسک پہنیں۔

اس وائرس کا فی الحال کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں، اور متاثرہ مریضوں کا علاج اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ چوہوں سے دور رہیں اور ایسے مقامات کی صفائی کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں تاکہ ہنٹا وائرس کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔