اسلام آباد: ماہرین صحت کے مطابق قدرتی اور مصنوعی شکر کے استعمال میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جبکہ زیادہ مقدار میں چینی کا استعمال انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں، سبزیوں، دودھ اور دیگر غذاؤں میں موجود قدرتی شکر جسم میں آہستہ ہضم ہوتی ہے جس سے توانائی مسلسل فراہم ہوتی رہتی ہے، جبکہ چینی (Sugar) جسم میں داخل ہو کر تیزی سے ہضم ہوتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو فوری طور پر بڑھا دیتی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق خواتین کو روزانہ 25 گرام (6 چائے کے چمچ) اور مردوں کو 36 گرام (9 چائے کے چمچ) سے زیادہ چینی استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد اس سے کہیں زیادہ چینی اپنی روزمرہ خوراک میں استعمال کرتے ہیں، جیسے ایک سافٹ ڈرنک میں تقریباً 10 چائے کے چمچ چینی شامل ہوتی ہے۔
چینی کے زیادہ استعمال کے نقصانات
طبی ماہرین کے مطابق چینی کے زیادہ استعمال سے متعدد بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جن میں شامل ہیں:
جسمانی وزن میں اضافہ، جس سے ذیابیطس اور دل کے امراض بڑھتے ہیں
امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ دوگنا ہو سکتا ہے
ٹائپ 2 ذیابیطس، انسولین کے نظام میں خرابی کی وجہ سے
ہائی بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں پر منفی اثرات
ہائی کولیسٹرول اور دل کی کمزوری
جگر میں چربی جمع ہونا اور خطرناک جگر کے امراض
دانتوں کی خرابی اور کیویٹیز
نیند کی کمی اور دن میں غنودگی
ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور ڈپریشن کا بڑھتا ہوا خطرہ
جوڑوں کا درد اور یورک ایسڈ میں اضافہ
گردوں کی پتھری کا خطرہ
قبل از وقت بڑھاپا اور جلد پر جھریوں کا نمودار ہونا
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور مصنوعی شکر کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور متوازن غذا کو ترجیح دیں۔









