95

کم عمر شادیوں کے خلاف بڑا فیصلہ، پنجاب حکومت کا آرڈیننس نافذ

لاہور: پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے کم عمری کی شادی پر پابندی سے متعلق اہم آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی پیر اشرف رسول نے کی، جبکہ اجلاس میں چائلڈ پروٹیکشن چیئرپرسن سارہ احمد، چیف وہپ ن لیگ رانا ارشد سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق سلیم حیدر پہلے ہی پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026ء کی منظوری دے چکے ہیں، جس کے بعد اس قانون کو حتمی شکل دینے کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔ کم عمر شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیتے ہوئے اس پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔

قانون کے تحت کم عمر نکاح رجسٹر کرنے والے یا نکاح خواں کو کم از کم 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، جبکہ کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے کو 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

مزید سخت شق کے مطابق 18 سال سے کم عمر کی شادی کو زیادتی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا، جس پر 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اسی طرح دوسرے صوبے میں جا کر کم عمر بچوں کی شادی کرانے پر بھی 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

قانون میں والدین اور نکاح رجسٹرار کو بھی غفلت کی صورت میں ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ منظوری کے بعد یہ آرڈیننس پنجاب اسمبلی سے حتمی توثیق کے بعد قانون کی شکل اختیار کرے گا۔