خیبرپختونخوا کے گورنر Faisal Karim Kundi نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانے کے لیے بھرپور سیاسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا ممکن ہو جائے گا، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے حاصل ہونے والی نشستیں اضافی فائدہ دیں گی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے پیپلز پارٹی کے بیٹ رپورٹرز سے ملاقات میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کسی بھی اڑھائی سالہ معاہدے کا کوئی وجود نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت ہو جائے تو مسلم لیگ (ن) کو ان کے ساتھ آنا پڑے گا۔
گورنر نے معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے اور ترقیاتی منصوبوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کہا کہ پارلیمنٹ میں واک آؤٹ ممکن نہیں کیونکہ بعد میں اسی حکومت کے بل کے حق میں ووٹ دینا پڑتا ہے۔
اپنے اختیارات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گورنر کے پاس اب کیا اختیارات ہیں، یہ بھی معلوم نہیں، جبکہ فاٹا کے انضمام سے پہلے گورنر کو زیادہ اختیارات حاصل تھے۔
عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ گورنر نے ریٹائرڈ ججوں کو دی جانے والی سہولیات، خصوصاً پٹرول کی مقدار، میں کمی کی تجویز بھی دی۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “رہائی فورس جیسے اقدامات محض عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں اور خود پارٹی کارکن بھی ان اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے”۔









