پشاور: محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، صوبے کے مجموعی بقایاجات میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 4.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اکتیس دسمبر 2025 تک صوبے کا مجموعی غیر ملکی قرضہ 809.742 ارب روپے (تقریباً 2.87 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 30 جون 2025 کو قرضوں کا حجم 776.321 ارب روپے تھا، جس میں 6 ماہ کے دوران 33 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی دو بڑی وجوہات شامل ہیں
نئے قرضے: چھ ماہ کے دوران 29.280 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے گئے۔
روپے کی قدر میں کمی: روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 280 سے گر کر 281.80 ہو گئی، جس سے قرضوں کے بوجھ میں 4,140 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔
بڑے قرض خواہ
صوبے کے قرضوں میں سب سے زیادہ حصہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا ہے
عالمی بینک: 44 فیصد حصہ (352.5 ارب روپے)
ایشیائی ترقیاتی بینک : 43 فیصد حصہ (351.8 ارب روپے)
دیگر ادارے: ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک 4 فیصد، فرانس 5 فیصد اور جاپان 3 فیصد
قرض کی رقوم زیادہ تر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی گئیں
ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن: 25.89 فیصد (209 ارب روپے)
توانائی اور بجلی: 12.56 فیصد
صحت اور تعلیم: تقریباً 12.6 فیصد
زراعت اور آبپاشی: تقریباً 10.3 فیصد
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر نئے ایکسچینج ریٹ (290 روپے فی ڈالر) کو لاگو کیا گیا تو صوبے کی واجب الادا رقم بڑھ کر 834.212 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے، جس سے صوبائی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔









