مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ہائی آکٹین اور کیروسین آئل کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہائی آکٹین کو "اشرافیہ کا آئل" قرار دے دیا ہے اور اس کی قیمت میں 300 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر کے 534 روپے تک پہنچا دی ہے۔
مزمل اسلم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے غریب عوام کے لیے استعمال ہونے والے کیروسین آئل کی قیمت میں بھی 248 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 430 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ عوامی مفاد میں نہیں ہے، کیونکہ اس کا براہ راست اثر عوام کی جیب پر پڑے گا۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے حکومت کے اندازوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومتی دعوے کے مطابق ہائی آکٹین آئل کی قیمت میں اضافے سے 9 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، لیکن ان کے خیال میں 70 فیصد لوگ ہائی آکٹین سے سپریم یا دیگر متبادل آئل پر منتقل ہو جائیں گے، جس سے اس بچت کے تخمینہ کو حاصل کرنا مشکل ہو گا۔
مزمل اسلم نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عید کے موقع پر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، جسے "عید کا تحفہ" قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، ان کے مطابق 48 گھنٹوں کے اندر ہی مٹی کے تیل اور ہائی آکٹین آئل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے وزیراعظم نے عوام کو "عید سرپرائز" دیا ہے۔
اس اضافے کے بعد عوام میں مایوسی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کیا حکومت نے واقعی عوامی مفاد کو مدنظر رکھا ہے؟









