کوہاٹ میں قتل ہونے والی لیڈی ڈاکٹر مہوش کے خلاف آج چوتھے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری رہی۔ احتجاج میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس، نرسز اور میڈیکل کالج کے طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہے۔
حکام کے مطابق احتجاج کے باعث ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام طبی خدمات معطل ہیں۔ بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ہنگو اور مردان سمیت جنوبی اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں بھی ڈاکٹرز نے اوپی ڈی سروسز سے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر اسفند یار کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے علاوہ تمام سروسز سے بائیکاٹ جاری رہے گا۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے کو عدم تحفظ کا سامنا ہے اور ہسپتالوں میں سکیورٹی ایکٹ کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب صرف سکیورٹی نہیں بلکہ جان کے تحفظ تک پہنچ چکا ہے اور صوبائی حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر مہوش کو تین روز قبل ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انہیں آٹھ گولیاں ماری گئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے جس کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔









