18

بچوں کے تحفظ کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا سنگِ میل اقدام

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (CPUs) کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد خیبرپختونخوا میں یونٹس کی تعداد بڑھ کر 24 ہو جائے گی۔

 

اس اقدام کے لیے مجموعی طور پر 119.86 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 57 ملین روپے نئے یونٹس کے قیام اور 62.86 ملین روپے موجودہ یونٹس کو مضبوط بنانے، خالی آسامیوں پر بھرتیوں اور سروس کی بہتری کے لیے رکھے گئے ہیں۔ نئے یونٹس مانسہرہ، شانگلہ، مالاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان اور نوشہرہ میں قائم کیے جائیں گے۔

سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نذر حسین شاہ کے مطابق یہ یونٹس خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی، رجسٹریشن، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا مرکزی ادارہ ہوں گے۔ ہر ضلع میں یونٹ کا قیام قانون کے تحت لازمی ہے اور حکومت اسے مرحلہ وار تمام اضلاع تک وسعت دے گی۔

چیف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن اعجاز محمد خان نے بتایا کہ فنڈز کے اجراء کے بعد ای ٹی ای اے کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا تاکہ یونٹس فوری طور پر فعال ہو سکیں۔ ہر یونٹ میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر، سوشل کیس ورکر اور ماہر نفسیات تعینات ہوں گے جو بچوں کو مکمل کیس مینجمنٹ اور قانونی معاونت فراہم کریں گے۔

حکام کے مطابق یہ یونٹس نہ صرف متاثرہ بچوں کو فوری امداد فراہم کریں گے بلکہ عوامی آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت اور نچلی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے بچوں کو تشدد، استحصال اور زیادتی سے بچانے کے لیے جامع نظام تشکیل دیں گے۔