چارسدہ ۔ اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہونے دیں گے کرپشن کے خاتمے کے دعویدار عمران خان احتساب کا عمل اپنے پارٹی سے شروع کرکے حالیہ سینٹ انتخابات میں فروخت ہوئے لوٹے ایم پی ایز کو بے نقاب کرکے اُن کے خلاف کاروائی کریں۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے اُتمانزئی میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ زرداری نے سینٹ میں کپتان کے ووٹ لیکر اُن کی اصلیت کو قوم کے سامنے بے نقاب کیا۔اسفندیار ولی خان نے کہاکہ آفتاب شیر پاؤ اپنے کارکنوں کو لگام دیں ورنہ میں کارکنوں کی بجائے اُن سے حساب لوں گا اور کہا کہ پختون قوم نازک دور سے گزررہی ہے ۔
ہر جگہ بے گناہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے آج بھی بہت سے لوگ پریشان ہیں ۔ جو قوتیں اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنا چاہتی ہیں اے این پی اُس کی بھرپور مزاحمت کرکے آخری حد تک جائیگی اور کہا کہ اٹھارویں ترمیم سے چھوٹے صوبوں کی احساس محرومیوں کا خاتمہ ہورہا تھا اور اگر اسے چھیڑا گیا تو ہمارا ہاتھ ان لوگوں کے گریبان پر ہوگا ۔ اسفندیار ولی خان نے عمران خان اور دیگر سیاسی قائدین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پر آکر خلف بر قرآن کہیں کہ کس نے قومی دولت لوٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی پر اپنے ارکان اور وزراء کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں مگر عمران خان کو کچھ نظر نہیں آرہا ۔ بلین ٹری سونامی اور ایک ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے حال ہی میں تعمیر کیا گیا حیات آباد فلائی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے مگر نیب خاموش ہے ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم ہوتے ہی کرپشن کی نئی داستانیں منظر عام پر آئیگی ۔
وزیر اعلی کے خلاف نیب میں اب بھی د و کیس چل رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آفتاب شیر پاؤ کو دو دفعہ عمران خان نے حکومتوں سے کرپشن کے الزام میں نکالا گیا ‘ تیسری بار سینٹ انتخابات میں بھی تحریک انصاف سے دھوکہ کھا گئے ۔انہوں نے کہاکہ انتخابات کا وقت قریب آتے ہی سراج الحق اور فضل الرحمان کو کرسی کی فکر لاحق ہوئی اور قوم کو دھوکہ دینے کیلئے ایم ایم اے بحال کیا حالانکہ دونوں نواز شریف اور عمران خان کے حکومتوں میں رہ کر پانچ سال تک مراعات حاصل کر تے رہے اور مزے کی بات یہ کہ ایک پارٹی نو ازشریف جبکہ دوسری پارٹی عمران خان کے خلاف پانچ سال تک الزامات لگاتے رہے ۔اسفندیار ولی خان نے آئندہ عام انتخابات سے پہلے فاٹا انضمام اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں نشستیں دینے کے ساتھ ساتھ اپریشن کے دوران فاٹا میں عوام کے نقصانات کے آزالے کا بھی مطالبہ کیا ۔
241









