سرگودھا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میری چیف جسٹس سے ملاقات پرمخالفین کوتکلیف ہوئی، اگرایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے توملک کیسے چلے گا؟،کہا جارہاہے کہ ملاقات ٹھیک ہے لیکن ٹائمنگ ٹھیک نہیں یہ کیسی سیاست ہے؟، میں نے ملاقات میں کوئی ذاتی بات نہیں کی،چیف جسٹس کے پاس پاکستان کا فریادی بن کر گیا تھا امید ہے کہ وہ ہماری بات کو سمجھیں گے،چیف جسٹس سے ملاقات میں ملکی صورتحال پربات ہوئی، ، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی،نیب عدالتوں سے ہمیں انصاف کی کوئی امید نہیں انہی عدالتوں نے ہمیں ہائی جیکر بنایا جب کہ ایک اقامہ پر نواز شریف کو فارغ کردیا یہ ملک کا نقصان ہے،آصف زرداری اور پرویزمشرف نے ملک کے لیے کوئی کام نہیں کیا، جو لوگ پیسے دیکر سینیٹر بنے ہیں وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکتے، ان لوگوں کو گھر بھیجنے کی ضرورت ہے، سب سے زیادہ تکلیف عمران خان کو ہے لیکن وہ اپنی تقریر بھول گئے ہیں کہ جب وہ روز تقریر کرتے تھے کہ میرے 14 ایم پی ایز آصف زرداری نے خرید لیے ہیں لیکن جب ووٹ دینے کی باری آئی تو ان کی جماعت نے پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیئے۔
جمعہ کو وہ یہاں عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے ۔جمعہ کو وزیراعظم نے سرگودھا شہر کیلئے گیس فراہمی کے 2منصوبوں کا افتتاح کیا جس کے بعد انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے شاہینوں کے شہر میں آ کر خوشی ہوئی، خدا نے میاں نواز شریف کو موقع دیا تو صرف سرگودھا میں ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ترقیاتی کام ہوں گے، جب یہ حکومتی آئی تو وسائل آپ کے سامنے تھے، پرویز مشرف نے کوئی کام کیا نہ ہی آصف علی زرداری نے کوئی کام کیا ہے، ملک میں بجلی تھی نہ ہی گیس اور نہ ہی سڑکیں بنائی گئیں، بجلی گھر اور ڈیم بھی نہیں بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان 10لاکھ ٹن کھاد باہر سے منگوایا کرتا تھاسردیوں میں گیس اور گرمیوں کی بجلی نایاب تھی، کارخانے بند تھے، آج مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ صرف سرگودھا میں 11ارب روپے کے کام ہورہے ہیں، میاں صاحب نے میری ذمہ داری گیس کی کمی کو پورا کرنے پر لگائی تھی، سوئی ناردرن کی مدد سے اس سردیوں میں گیس کی کمی نہ ہونے کے برابر تھی، یہاں جو منصوبے ہم نے لگائے ہیں اس کے بعد سرگودھا میں کبھی گیس کی کمی نہیں ہو گی، آپ ہسپتال، سکول، کالج اور سڑکیں دیکھ لیں۔
پورے پاکستان میں کہیں پر جائیں آپ کو جگہ جگہ کام ہوتا نظر آئے گا، منصوبوں پر مسلم لیگ(ن) اور میاں نواز شریف کا نام نظر آئے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) خلوص نیت سے کام کرتی ہے، عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کر تے ہیں، اس سے پہلے کی حکومتیں صرف جیبیں بھرنے کیلئے کام کرتی تھیں، مارشل لاء دور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں جیل میں ڈالا گیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں نیب کی عدالت سے کوئی انصاف کی توقع نہیں ہے، میاں نواز شریف پر لگائے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے، الزامات بھی ایسے لگائے جاتے ہیں کہ جن کا کوئی سر ہے نہ پیر، کوئی ایسا گواہ بھی عدالت میں نہیں آتا جو کہے کہ کسی نے کوئی جرم کیا ہے، سرگودھا سے تعلق رکھنے والے چوہدری عبدالحمید کو آمرانہ دور میں صرف مسلم لیگ (ن) کا حامی ہونے کی وجہ سے قید کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے میاں نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا، وقت ثابت کر دے گا کہ تاریخ پانامہ کیس کو کیسے دیکھتی ہے، اس سے پہلے انہی عدالتوں نے میاں نواز شریف کو ہائی جیکر بنایا، آج صرف ایک اقامہ پر جس کی نہ بنیاد ہے نہ ثبوت اس پر فارغ کر دیا گیا، یہ ہمارے ملک کا نقصان ہے، ایسے فیصلوں سے ترقی رک جاتی ہے یہ حقائق سب کو سمجھنے چاہئیں، پچھلے پانچ سالوں میں یہاں جو کچھ ہوا وہ سب آپ جانتے ہیں،کبھی دھرنے ہوئے اور کبھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا، اس کے باوجود جو کام میاں نواز شریف نے کئے میں ان 5سالوں کا گزشتہ65سالوں سے موازنہ کرتا ہوں پھر بھی ہمارے کام ان سے زیادہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا 20ہزار میگاواٹ بجلی لگائی گئی، ان پانچ سالوں میں ہماری حکومت نے 10ہزار500میگاواٹ بجلی لگائی، ہمارے کاموں کے ثمرات اگلے 20سالوں تک چلیں گے، پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں کمی نہیں ہو گی، آج وہ لوگ تقریریں کر رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کیلئے مسائل پیدا کئے ،ہم نے 1700کلومیٹر کی موٹروے بنائی ہیں، پہلے بھی حکومتیں یہ کر سکتی تھیں مگر انہوں نے نہیں کئے، کام کرنے کیلئے جذبہ چاہیے، تمام صوبوں کو برابر پیسے دیتے ہیں مگر سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے سب سے زیادہ کام کیا ہے، یہی فرق ہے آپ کی جماعت میں اور دوسری جماعتوں میں، آج ہمارے مخالفین بڑی تکلیف کا شکار ہیں، کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے سینیٹ چیئرمین کے بارے میں بیان دیا ہے، میں آج پھر بیان دیتا ہوں کہ پاکستان کے عوام پیسے دے کر خریدی گئی سیٹوں کو قبول نہیں کرتے، جو لوگ پیسے دے کر سینیٹر اور سینیٹ چیئرمین بنے ہیں وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکتے ان لوگوں کو گھر بھیجنے کی ضرورت ہے، اگر ہم نے آج اس برائی کا مقابلہ نہ کیا تو کل اور پھیلے گی، ہم نے پیسے کی سیاست کو دفن کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سب سے زیادہ تکلیف ہے لیکن وہ اپنی تکلیف بھول نہیں سکا جو روزانہ پریس کانفرنس کرتا تھا کہ میرے 14ایم پی اے آصف زرداری نے خرید لیئے ہیں، بعد خود اپنے سینیٹرز کے ووٹ آصف زرداری کو دلوائے،ایسی سیاست کو ہم نے دفن کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ پیسے دے ایوانوں میں پہنچتے ہیں ۔
وہ ملک کی خدمت نہیں کرتے، ہم نے ایسے ڈرامے بہت دیکھے ہیں عوام کا ووٹ ایسے لوگوں کو ختم کرے گا، ووٹ کے ذریعے ہی مارشل لاء ختم کیا گیا تھا، آج ہمیں اس برائی کے خلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے، سینیٹ ، وفاق، صوبوں اور صوبوں کے حقوق کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے 100روپے بھی خرچ کئے ہوں تو بڑی بات ہے، مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جس نے سینیٹ انتخابات میں ایک پیسے کا خرچہ نہیں کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ باقی ایسی جماعتوں کے سینیٹرز منتخب ہوئے جن کی جماعتوں کا وجود تک نہ تھا، یہ صرف خرید و فروخت سے ہی ممکن ہے، میں چیلنج دیتا ہوں کہ آصف زرداری اور عمران خان ٹی وی پر آ کر صرف اتنا کہہ دیں کہ ہمارے ایم پی ایز بکے ہیں نہ ہی ہمارے سینیٹرز نے ووٹ خریدے ہیں، چیئرمین سینیٹ بغیر پیسے کے بنا ہے، صرف اتنا کہہ دیں تو ہم یقین کر لیں گے، اگر ان کا ممبر نہیں ہے، ان کو شرم نہیں آتی تو صرف اتنا کہہ دیں کہ پاکستان کی عوام سننا چاہتے ہیں، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ سیاست ہمیں قابل قبول نہیں ہے، میں اس برائی کے خلاف بات کرنا جہاد سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عزت شرافت کی سیاست میں ہے، سینیٹ چیئرمین ہی اتنا کہہ دے کہ اس کو جو ووٹ ملے وہ خریدو فروخت سے نہیں آئے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میری باتوں سے کسی کو بھی تکلیف ہو ان کو یہ تکلیف برداشت کرنا ہو گی، میری چیف جسٹس سے ملاقات کی مخالفین کو بہت تکلیف ہے، میں قوم کا وزیراعظم ہوں، ملک میں مشکلات کو دیکھتے ہوئے مجھ پر لازم ہے کہ چیف جسٹس سے ملاقات کروں اور ان کو عوام کی مشکلات سے آگاہ کروں، ہم ایک دوسرے سے بات نہ کریں تو بات آگے کیسے بڑھے گی، بات کرنے میں حرج نہیں ہوتی، میں ان کے پاس عوام کی فریاد لے کر گیا تھا، انہوں نے کہا کہ سارے کہتے تھے ادارے آپس میں بات نہیں کرتے، اب بات کی ہے تو سب کو تکلیف ہے، کوئی کہتا ہے کہ ملاقات ٹھیک ہے مگر ٹائم غلط تھا، ہم الزامات کی سیاست کو جولائی میں ختم کر دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ نجومیوں نے ہر مہینے حکومت کے گھر جانے کی پیش گوئیاں کیں مگر ہماری حکومت موجود ہے ، انشاء اللہ آخری منٹ تک ہماری حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، ہم آج بھی کام کر رہے ہیں، ہم سب جماعتوں کے کارکنوں کیلئے برابری کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔
222









