23

کے پی کی پسماندگی پر سوالات: طالبہ نے سہیل آفریدی سے جواب طلب کیا

پشاور میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹیرین کنونشن کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ایک طالبہ کے درمیان سوال جواب کا سیشن گرمجوشی اور تنقید کے مباحثے میں بدل گیا۔ طالبہ نے حکومت کی کارکردگی سے متعلق سخت سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں تو کے پی میں 13 سال سے پسماندگی کیوں جاری ہے، اور اس دوران صوبے کو حکومت نے کیا دیا؟

طالبہ نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں، براہِ راست بتائیں کہ صوبے میں ترقی کیوں نہیں ہوئی اور جو ترقی ہوئی ہے وہ ایم پی اے اور ایم این اے کے گھروں میں کیوں نظر آ رہی ہے؟ انہوں نے صوبے میں کرپشن کے الزامات بھی اٹھائے اور پوچھا کہ اس کے خلاف حکومت نے کیا اقدامات کیے، اور دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کے پی کی ترقی کا معیار کیا ہے؟

سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے طالبہ کو سیاسی جماعت سے تعلق کا الزام لگا دیا اور کہا کہ اس کا تعلق ضرور این پی یا کسی دوسری پارٹی سے ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صوبے کے نوجوانوں میں سوال کرنے کا شعور پیدا کیا ہے اور ایک بہن نے ان سے پالیسی کے حوالے سے سوال کیا، جو کہ ایک مثبت بات ہے۔

طالبہ کے سوالات اور وزیراعلیٰ کے ردعمل نے سوشل میڈیا پر بھی بحث کو جنم دیا، جہاں لوگوں نے حکومت کی کارکردگی اور سیاسی بیانیے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں ترقیاتی مسائل اور شفافیت کے حوالے سے بحثیں زور پکڑ رہی ہیں، اور عوامی سطح پر حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔