87

پنجاب حکومت نے سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز جاری کر دیے

لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر خزانے کے منہ کھول دیے ہیں، اور پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والی پوسٹ بجٹ رپورٹ نے اس کی حقیقت سامنے لا دی۔ رپورٹ کے مطابق بجٹ 2025-26 کی دوسری سہ ماہی تک سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر مجموعی طور پر 26 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں، جس سے عوامی فنڈز کے استعمال پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں 38 ارب روپے سے زائد رقم جاری کی گئی جبکہ 13 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ دوسری سہ ماہی میں 20 ارب روپے سے زائد رقم جاری کی گئی اور 13 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ کے برخلاف اخراجات کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور شفافیت کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

مزید برآں، بجٹ 2025-26 میں سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش کے لیے مجموعی طور پر 161 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی تھی، جبکہ دوسری سہ ماہی تک محکمہ آبپاشی نے 7 ارب روپے سے زائد خرچ کیے۔ اسی دوران دوسری سہ ماہی تک سڑکوں کی تزئین و آرائش پر 37 ارب روپے سے زائد خرچ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیح اور عوامی وسائل کے استعمال پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے بعد عوامی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا واقعی یہ اخراجات ضروری تھے یا ان میں شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، جبکہ اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے تحقیقات اور تفصیلی جانچ کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔