وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بیماری کو چھپانا ایک طرح کی میڈیکل دہشت گردی ہے۔ ان کے مطابق ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اپنے ذاتی معالج سے علاج کروائے، مگر عمران خان کے معاملے میں نہ اہل خانہ کو معلومات دی گئیں اور نہ ہی ذاتی معالج کو اعتماد میں لیا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو ہفتے کی رات جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اس دوران صورتحال کو چھپانے کے پیچھے مقاصد کیا تھے، یہ سوال اب بھی حل طلب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی کی زندگی کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہیے تاکہ اہل خانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلاء کی ملاقات ممکن بنائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے دنیا بھر میں جعلی الزامات کے تحت کسی شخص کے لیے آواز اٹھائی گئی تھی، اسی طرح عمران خان کے حق میں بھی میڈیا کو فوری اور سنجیدہ موقف اپنانا چاہیے۔ سہیل آفریدی نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر فوری ملاقات نہ کرائی گئی تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں اور اس کے تمام ذمہ دار حکومتی حکام ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ناحق سلوک، بیماری کو چھپانا اور جیل سے اسپتال منتقل کرنے کے طریقے نے عوام میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے اور اس پر فوری جواب دینے کی ضرورت ہے۔









