پشاور سے موصولہ خبر کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کی جانب سے رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔ خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آئینی طور پر لازم وفاقی فنڈز کی عدم ادائیگی شدید مالی بحران کا باعث بن رہی ہے اور فنڈز کی منتقلی میں مسلسل تاخیر صوبائی گورننس اور سروس ڈیلیوری کو متاثر کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ آئینی مالی حقوق کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا مگر اصل ریلیز بجٹ اہداف سے کم رہی، جس کے باعث قومی ذمہ داریوں کا مالی بوجھ غیر متناسب طور پر صوبے پر ڈال دیا گیا ہے۔
خط میں مزید بتایا گیا کہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ، آئل اینڈ گیس رائلٹیز اور این ایف سی منتقلی آئینی واجبات ہیں، لیکن وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب روپے کے بجائے صرف 604 ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔ اس مالی شارٹ فال نے کیش مینجمنٹ، بجٹ کے عمل درآمد اور عوامی خدمات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ضم اضلاع کے لیے صوبائی مختص رقم 292 ارب روپے تھی مگر وفاقی ریلیز اب تک صرف 56 ارب روپے ہے، جس سے ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولتوں پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خط میں وفاقی واجبات کی فوری اور غیر مشروط ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ تاخیر سے مالی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز آئینی تقاضوں کے مطابق فراہم کرنے اور اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کی فوری ذاتی توجہ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی رقوم کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں عوامی خدمات اور ترقیاتی کام متاثر ہو سکتے ہیں، اور اس سے پورے صوبے کی معاشی اور سماجی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔









