102

نئے صوبے بننے پر خوف کی بات نہیں، وزیردفاع کا بڑا اعلان

لاہور میں تھنک فیسٹ کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں میں کوئی حرج نہیں اور کسی کو اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ کیے گئے تو یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہوگا، کیونکہ پاکستان کی بقا لوکل گورنمنٹ میں ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں دو اہم شقیں ڈراپ کی گئیں، جن میں سے ایک لوکل گورنمنٹ سے متعلق تھی، جس پر کافی اعتراضات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے نرسری کی طرح سمجھا جائے، کیونکہ دنیا بھر میں بڑے شہروں کے میئرز مضبوط انتظامی طاقت رکھتے ہیں اور اس کی بہترین مثال نیویارک کے میئر ممدانی ہیں۔

انہوں نے 18ویں ترمیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ڈویلیشن کی ضمانت دی لیکن وہ کبھی عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکی، اسی لیے انہوں نے 18ویں ترمیم کو “ڈھکوسلا” قرار دیا، جس سے کئی لوگوں کو برا لگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سیاستدانوں کو اگر اپنی طاقت برقرار رکھنی ہے تو انہیں عوامی سطح پر اپنی توثیق کرانی ہوگی کیونکہ 25 کروڑ پاکستانی گلی محلے میں موجود ہیں اور انہیں اپنے حق میں کرنا ہوگا۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ تینوں بڑے ڈکٹیٹروں نے لوکل گورنمنٹ کا سہارا لیا، اور اسی وجہ سے انہیں طویل عرصے تک اقتدار مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاستدان کو 9، 9 سال نہیں ملے لیکن ڈکٹیٹروں کو ملے، کیونکہ انہوں نے اختیارات کو لوکل گورنمنٹ کے ذریعے نیچے تک پہنچایا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے عام آدمی کو کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اس ملک کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں زیادہ تر لوگ جنرل ضیا کی لوکل گورنمنٹ سے “گریجویٹ” ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں، اگر خطرہ ہے تو صرف بیوروکریسی کو ہے کیونکہ اس کے اختیارات کم ہو کر لوکل گورنمنٹ کو منتقل ہوں گے۔ خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ ہمیں اندر سے خوف کیوں ہے کہ اگر لوکل گورنمنٹ مضبوط ہوئی تو کوئی مخصوص سیاسی جماعت اقتدار میں آ جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلیبس کی بات بھی 27 ویں ترمیم میں ڈراپ کی گئی، اور امید ظاہر کی کہ جو بحث اس وقت جاری ہے اس کا نتیجہ نکلے اور ڈراپ شدہ دونوں شقیں آئینی ترمیم میں شامل کی جائیں۔