جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادی کے حوالے سے بنایا گیا قانون غیر اسلامی ہے اور وہ سرعام اس کی خلاف ورزی کریں گے۔ مولانا نے اعلان کیا کہ وہ 10، 15 اور 16 سال کے نوجوانوں کی شادیاں کروائیں گے اور یہ قانون پاکستان میں کبھی نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے عالمی مسائل پر بھی پارلیمنٹ میں زوردار ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں اسرائیل فلسطینیوں کی قوت مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اسلامی دنیا کے بعض اقدامات محض امن کے نام پر ہو رہے ہیں، جبکہ دراصل یہ عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں قوانین، ملکی خودمختاری اور عالمی دباؤ کے خلاف بھی سخت احتجاج کیا اور کہا کہ اگر وہ ماضی میں مشرف کے خلاف کھل کر آواز اٹھا سکتے تھے تو آج بھی اٹھا سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے زور دے کر کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو قانون سازی میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ قوانین شریعت کے مطابق ہوں اور ملکی اقدار کا تحفظ ہو۔
یہ بیان اب ملک بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔









