وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت میں اقلیتی تشدد پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کی کوششوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اب ایک ریاستی پالیسی بن چکا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، خاص طور پر نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اقلیتی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے گجرات میں 2002 کے فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور ہزاروں گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت میں سکھوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے بدترین سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور اب عیسائی برادری بھی تشدد کا شکار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کرسمس کے موقع پر عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی مثال دی، جو مودی حکومت کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کے پاس ڈیڑھ ارب کی آبادی ہونے کے باوجود اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور اس میں مذہبی جنونیت کی حکومت عالمی برادری کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندتوا کی سوچ اور انتہاپسند نظریات خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
خواجہ آصف نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جو قومیں تباہی کی طرف بڑھتی ہیں، وہ ایسے ہی انتہاپسندانہ رویے اختیار کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتیں ہمیشہ سے محفوظ رہی ہیں اور پاکستان میں انہیں برابری کی بنیاد پر مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری خصوصاً امریکی حکومت بھارت میں مسیحی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر ردعمل ظاہر کرے گی۔









