52

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وفاق پر 5300 ارب کی کرپشن کا الزام، این ایف سی حصے کی عدم ادائیگی پرناراض

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر بڑا مالیاتی الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی جس سے ’’باہر فلیٹس اور جزیرے خریدے جارہے ہیں‘‘۔

انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کا غلط استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق وفاق نے صوبوں کے حقوق پر مسلسل ڈاکہ ڈالا ہے، جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا مالی دباؤ کا شکار ہے۔

این ایف سی اور ضم اضلاع کے فنڈز: بڑا تنازعہ

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ آنے والے این ایف سی اجلاس میں ضم اضلاع کے فنڈز کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا:

  • فاٹا انضمام کے بعد این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 19 فیصد بنتا ہے

  • صوبے کو 7 سال سے 350 ارب روپے سالانہ حصہ نہیں مل رہا

  • مجموعی طور پر صوبہ سیکڑوں ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کر چکا ہے

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی کام سست پڑ چکے ہیں اور امن و روزگار کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

پشاور کے لیے 100 ارب کے ترقیاتی منصوبے

بعد ازاں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پشاور کے پارلیمنٹیرینز کا اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرینڈ میٹنگ بلانے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور صوبے کا معاشی، انتظامی اور ثقافتی دل ہے، اس لیے شہر کی ترقی کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی فہرست فوری طور پر مکمل کی جائے تاکہ بجٹ سے قبل ان پر عملی پیش رفت شروع کی جا سکے۔