64

خیبر پختونخوا: 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 میں ترامیم کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان قوانین پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مجوزہ قانونی اصلاحات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آزادی اظہارِ رائے اور پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم احتجاج کے دوران عوامی سہولت اور روزمرہ زندگی کے تسلسل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا نیا لائحہ عمل تیار کرے گی جس میں احتجاج کے حق اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ان قوانین سے ایسے نکات نکال دیے جائیں جو سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر قانون کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں، اس لیے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق ان قوانین کو عوامی مفاد میں مزید بہتر بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ہر اقدام کا مقصد عوامی فلاح ہونا چاہیے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد عابد مجید اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔