وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں راہگیروں کے ناکے پر راولپنڈی پولیس نے روک دیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان ان کے لیڈر ہیں اور ان سے ملاقات کرنا ان کا حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی کے احکامات پر کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے اور جلد اعلان متوقع ہے، پہلے مرحلے میں کابینہ 10 سے زائد ارکان پر مشتمل ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں روکنے والے جانتے ہیں کہ ان سے کیا خوف ہے، ہائیکورٹ کے تحریری آرڈر ملنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دو سال سے اپنے قائد سے نہیں ملے اور دیکھیں گے کہ کس حد تک ملاقات سے روکا جاتا ہے۔
سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ فوج اور پولیس کے شہداء کی قربانیوں کی قدر ہونی چاہیے، ان کی ہمدردی صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے، اور فیصلہ سازوں کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
این ایف سی ایوارڈ اور بلٹ پروف گاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کی بھیک نہیں چاہیے اور کے پی کے کے حقوق ہر فورم پر حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ لاکھ افغان باشندوں کو باوقار طریقے سے واپس بھیجا جا چکا ہے اور باقی کا انخلا بھی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ گورنر کی تبدیلی یا کسی اور معاملے سے انہیں فرق نہیں پڑتا، وہ عوامی مینڈیٹ کے تحت عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔









