63

کم عمر گرفتارافغانی خودکش کا پاکستانی سکیورٹی فورس کواہم بیان

فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) کی ایک بڑی کارروائی میں ایک خودکش بمبار گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے اعترافی بیان سے افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے کم عمر افغان نوجوانوں کو دہشتگردانہ عملیات کے لیے بھرتی اور ذہن سازی کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق گرفتار شدہ خودکش بمبار کی شناخت نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کے نام سے ہوئی ہے جو افغانستان کے صوبے کندھار کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ نعمت اللہ کے اعترافی بیان کے مطابق وہ کندھار میں واقع ایک دینی مدرسے کا طالب علم تھا اور وہاں سے ذہن سازی اور بنیادی تربیت کے بعد گروپ کیساتھ سرحد پار کر کے جنوبی وزیرستان آیا۔

گرفتار خودکش بمبار نے دورانِ تفتیش کہا کہ مدرسے کے کچھ افراد نے انہیں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے اُکسایا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اور ان کے کچھ ساتھی خوست میں جمع ہوئے اور پھر راستے سے پاکستان میں داخل ہو کر جنوبی وزیرستان کے ایک علاقے میں طالبان کے مرکز تک پہنچے جہاں انہیں دہشتگردانہ کارروائیوں کی تربیت دی گئی۔ نعمت اللہ کے بقول ان کے گروپ میں شامل نوجوانوں کی عمریں 18، 20 اور 22 سال کے درمیان تھیں۔

نعمت اللہ نے بتایا کہ ابتدائی تربیت کے دوران انہیں عسکری کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ہدایات دی گئیں، تاہم تربیت میں شامل مخصوص تکنیکی تفصیلات پر اس رپورٹ میں اجتناب کیا جا رہا ہے۔ گرفتار ملزم نے بعد ازاں محسوس کیا کہ پاکستانی فوج کے اہلکار بھی مسلمان ہیں اور ملکی اداروں کے خلاف حملے انجام دینا مذہبی طور پر درست نہیں۔

فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ گرفتار خودکش بمبار کے موبائل فون اور دیگر شواہد قبضے میں لے لیے گئے ہیں اور ان کے اعترافی بیانات کی روشنی میں مزید ملزمان اور معاون عناصر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد پار موجود عناصر مذہبی ذہن سازی کے ذریعے کم عمر افراد کو عسکری سرگرمیوں کی طرف راغب کر رہے ہیں، جس پر فورسز چوکس ہیں۔

سیکیورٹی حکام نے عوامی شعور بڑھانے، مدارس اور نوجوان حلقوں میں نفسیاتی و مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے مداخلت کرنے اور سرحدی نگرانی میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ نوجوانوں کو دہشتگردانہ سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔