خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے قبل اپوزیشن نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے، جبکہ حکومت اور اسپیکر اسمبلی نے عمل کو مکمل طور پر آئینی اور قانونی قرار دیا ہے۔
مستعفی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، جس کے باعث سیاسی و قانونی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا گورنر کی منظوری کے بغیر نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ممکن ہے یا نہیں۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حیران کن ہے کہ ایک صوبے میں دو وزیراعلیٰ کیسے ہو سکتے ہیں، جب تک گورنر استعفیٰ منظور نہ کرے، کابینہ برقرار ہے"۔
جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمان کا کہنا تھا کہ "یہ ایک غیر قانونی عمل ہے، اگر علی امین گنڈاپور اب بھی وزیراعلیٰ ہیں تو دوسرا وزیراعلیٰ کیسے منتخب کیا جا سکتا ہے؟ یہ مسئلہ عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔"
دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "وزیراعلیٰ کا استعفیٰ موصول ہو چکا ہے، آئین کے مطابق نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو گا۔"
ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت "وزیراعلیٰ کا استعفیٰ ذاتی ہوتا ہے، اس کی منظوری یا مسترد کیے جانے کا کوئی تصور نہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "استعفیٰ گورنر کو بھیجا جاتا ہے، جو اسے وصول کرتا ہے۔ چونکہ اسپیکر کو بھی کاپی بھیجی گئی ہے، لہٰذا انتخاب کا عمل آئینی بنیاد پر ہو رہا ہے"۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے ہفتے کے روز اپنا دوسرا استعفیٰ گورنر فیصل کریم کنڈی کو بھجوایا تھا، جس پر گورنر ہاؤس کا کہنا ہے کہ "استعفیٰ موصول ہو گیا ہے، قانونی ٹیم پیر کو اس کا جائزہ لے گی۔"
پیر کے روز نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا شیڈول جاری ہے، لیکن اپوزیشن کی مخالفت اور گورنر کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ نہ آنے کے باعث صوبے میں ایک نئے آئینی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔









