258

36 سال بعد فیصل مسجد کی جامع تزئین و آرائش کا فیصلہ

سعودی عرب نے اسلام آباد کی علامتی حیثیت رکھنے والی فیصل مسجد کی تزئین و آرائش میں کپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی مدد کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے، جو اس کی تکمیل کے تقریباً چار دہائیوں بعد سامنے آیا ہے۔

یہ عظیم الشان مسجد 1966 میں سعودی فرماں روا شاہ فیصل عبدالعزیز کے دورۂ پاکستان کے بعد ایک خیال کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اس کا ڈیزائن ترک ماہرِ تعمیرات ودات دالوکائے نے تیار کیا، اور یہ 1988 میں مکمل ہوئی۔ تب سے فیصل مسجد نہ صرف اسلام آباد کی پہچان بن چکی ہے بلکہ عبادت گزاروں اور سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام بھی ہے۔

تاہم اب اس کی عمارت کو جامع مرمت اور دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سعودی حکومت، وزارتِ داخلہ اور سی ڈی اے کے درمیان ایک یادداشتِ تفاہم (MoU) جلد متوقع ہے تاکہ اس امداد کو باضابطہ بنایا جا سکے۔

حال ہی میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی جس میں MoU اور دیگر ممکنہ تعاون پر بات چیت ہوئی۔

سی ڈی اے کے بیان کے مطابق، ملاقات میں اسلام آباد میں ہوٹل سیکٹر میں سعودی سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔
سعودی سفیر نے شہری ترقی، خوبصورتی اور باغبانی کے شعبوں میں سی ڈی اے کی کاوشوں کو سراہا، اور اسلام آباد کو سبز منصوبوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے جدید نرسری کے قیام کو بھی سراہا۔

دونوں فریقین نے 23 ستمبر کو سعودی قومی دن کے لیے مشترکہ تیاریوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
چیئرمین سی ڈی اے نے تقریب کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور سعودی سرمایہ کاری اور ثقافتی تعاون کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسلام آباد کو مستقبل کے اشتراک کے لیے قدرتی شراکت دار قرار دیا۔