111

سندھ طاس معاہدہ خطرے میں، جنوبی ایشیا پانی کی قلت کی دہلیز پر

اسلام آباد/نیویارک، 24 جولائی 2025 — دہائیوں پرانا سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) جو طویل عرصے سے سرحد پار آبی تعاون کی ایک مثال سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنگین سفارتی بحران کا مرکز بن چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو معطل کرنے کے حالیہ فیصلے نے پاکستان کو عالمی سطح پر اپیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس میں شدید انسانی اور ماحولیاتی نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، جس کے تحت انڈس بیسن کی چھ دریاؤں کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا گیا: تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو، اور تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیے گئے۔ متعدد جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا — لیکن اب اس پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کا فیصلہ کشمیر میں ایک غیر تصدیق شدہ سیکیورٹی واقعے کے بعد سامنے آیا۔ پاکستان نے اس اقدام کو "غیر ذمہ دارانہ اور یکطرفہ" قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور 240 ملین سے زائد افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جو انڈس نظامِ آب پر انحصار کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا: "یہ صرف دو طرفہ معاملہ نہیں، بلکہ انصاف، استحکام اور بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت کا سوال ہے۔"