73

پاور ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ میں بڑے انکشافات

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کو پیر کے روز بتایا گیا کہ پاور سیکٹر میں کیپیسٹی پیمنٹس 2015 سے 2024 کے دوران 892 فیصد بڑھ چکی ہیں، جو 141 ارب روپے سے بڑھ کر 1,400 ارب روپے تک جا پہنچی ہیں۔

یہ اضافہ ایل این جی اور کوئلے سے چلنے والے نئے پاور پلانٹس کی شمولیت کی وجہ سے ہوا۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کے مالی سال 2023-24 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

مرکزی بجلی خریداری ایجنسی (CPPA) کے حکام نے بتایا کہ درآمدی کوئلے پر انحصار اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ بجلی کی لاگت بڑھنے کی اہم وجوہات ہیں۔

پی اے سی کے رکن سید نوید قمر نے نشاندہی کی کہ پاور ڈویژن بظاہر کوئلے کو بجلی مہنگی ہونے کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، جس پر سی پی پی اے حکام نے وضاحت دی کہ درآمدی کوئلہ واقعی لاگت میں اضافے کا بڑا سبب ہے۔