وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران آن لائن خواتین پولیس اسٹیشن اور 1Info موبائل ایپلیکیشن کا افتتاح کیا۔ یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں، خصوصاً خواتین کو فوری اور موثر پولیس سروسز کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موبائل ایپ کے ذریعے شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شکایات آن لائن درج کروا سکیں گے۔ خواتین کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1815 قائم کی گئی ہے، جو مکمل طور پر خواتین اسٹاف پر مشتمل ہے، جن میں کال اٹینڈنٹس، ریسپانڈرز اور تفتیشی افسران شامل ہیں۔
محسن نقوی نے اسلام آباد کے آئی جی علی ناصر رضوی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خواتین اور کمزور طبقات کے تحفظ کی جانب حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے آن لائن پلیٹ فارمز کو مزید موثر بنانے اور سیف سٹی منصوبے کو مصنوعی ذہانت (AI) سے منسلک کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیر داخلہ نے سیف سٹی کے ڈیجیٹل وال پر نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا اور اسٹاف کو ہدایت کی کہ عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کے لیے سیف سٹی کو ماڈل منصوبہ بنایا جائے گا۔
آئی جی اسلام آباد کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت وفاقی دارالحکومت میں 3100 کیمرے نگرانی کے لیے نصب ہیں، جبکہ مزید 3100 کیمرے لگائے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی پروجیکٹ کی مدد سے سردار فہیم قتل کیس سمیت کئی ہائی پروفائل کیسز میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس سے اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔
وزیر داخلہ نے ملک بھر کے سیف سٹیز کو آپس میں منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ڈیٹا شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر ہو گی۔









