132

کراچی میں عمارت گرنے کا سانحہ، ریسکیو آپریشن جاری

کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی، عمارت کے ملبے سے 7 لاشیں اور8 زخمیوں کو نکال لیا گیا،ملبے میں دبے مزید افراد کو نکالنے کیلئےریسکیوآپریشن جاری ہے۔

واقعے کے فوری بعد ریسکیو ادارے، پولیس اور رینجرز کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری کو طلب کیا گیا تھا تاہم ترجمان ریسکیو کا کہنا ہے کہ گلیاں تنگ ہونے سے ہیوی مشینری نہیں جاسکتی۔

ترجمان ریسکیو کے مطابق عمارت میں 12 خاندان رہائش پذیرتھے جبکہ متاثرہ عمارت سے متصل عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے اور متصل عمارت کی سیڑھیاں بھی گر گئیں ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں کئی خاندان مقیم تھے اور گرنے سے قبل عمارت کی حالت خستہ تھی۔ انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امدادی کاموں میں خلل نہ ڈالیں۔

لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ: انکوائری کمیٹی قائم

لیاری میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد سندھ حکومت نے تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کو تین روز میں انکوائری مکمل کرنے اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کر کے رپورٹ وزیرِ بلدیات کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔ وزیربلدیات نے تمام متعلقہ محکموں کو امدادی کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےعمارت گرنے کے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ریسکیو اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو جلد از جلد نکالا جائے اور زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جائے۔مراد علی شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کراچی بھر میں خستہ حال اور بوسیدہ عمارتوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیو اداروں کو فوری امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالنا اولین ترجیح ہے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد و ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔

ڈی جی ایس بی سی اے اسحاق کھوڑو کا کہنا ہے کہ یہ عمارت خستہ حال تھی اور انیس سو اناسی سے بھی پرانی تھی۔ واقعے کی رپورٹ بنائی جارہی ہے۔ دیکھ رہے ہیں خستہ حال پانچ سو چھبیس عمارتوں میں یہ شامل تھی یا نہیں۔