97

آئس لینڈ میں خوفناک آتش فشاں پھٹنے سے بڑی تباہی کا خدشہ، تمام شہری محفوظ مقامات پر منتقل

ریویک: آئس لینڈ کے ماہی گیری گاؤں گرینڈاوِک میں ایک بڑے آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد مقامی حکام نے فوری طور پر تمام شہریوں کو انخلا کا حکم دے دیا، اور گاؤں کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا۔

یہ دھماکہ منگل کی صبح 9:45 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 12:45 بجے) ہوا، جس کے نتیجے میں لاوے نے حفاظتی رکاوٹیں عبور کر لیں اور گاؤں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ حکام نے بتایا کہ 2023 میں ممکنہ آتش فشانی خطرات کے پیش نظر کار کے سائز کے پتھروں سے حفاظتی دیواریں بنائی گئی تھیں، مگر وہ لاوے کے سامنے بے بس ثابت ہوئیں۔

آتش فشاں کے پھٹنے سے قبل زلزلے کے جھٹکوں کی بنا پر قریبی لگژری سیاحتی مقام "بلیو لیگون" کو پہلے ہی خالی کرایا جا چکا تھا۔ تاہم، کچھ مقامی باشندے انخلاء کے احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے، جس پر پولیس حکام نے خدشات کا اظہار کیا۔

پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے حکام نے تصدیق کی کہ پورا گاؤں مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ 2023 سے جاری آتش فشانی سرگرمیوں کے باعث زیادہ تر آبادی پہلے ہی نقل مکانی کر چکی تھی، لیکن اب بھی تقریباً 40 گھروں میں لوگ رہائش پذیر تھے۔

ماہرین کے مطابق، آتش فشانی دراڑیں ایک کلومیٹر سے زیادہ پھیل چکی ہیں اور ایک نئی دراڑ بھی ظاہر ہو چکی ہے۔ یہ آئس لینڈ میں 2021 سے اب تک کا 11واں بڑا آتش فشاں دھماکہ ہے۔

آئس لینڈک میٹرولوجیکل آفس کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے زلزلوں کے امکانات کم ہیں، مگر یہ آتش فشانی سلسلہ کئی سال بلکہ صدیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئس لینڈ بحرِاوقیانوس کی درمیانی ریج پر واقع ہے، جہاں شمالی امریکہ اور یوریشین پلیٹوں کے ملاپ کی وجہ سے یہ علاقہ مسلسل زلزلوں اور آتش فشانی خطرات کی زد میں رہتا ہے۔