تہران: ایران نے سخت سیکیورٹی اقدامات کے تحت 11 لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کر دیا اور مزید پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے مطابق، ایران غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اپنی سرحدوں کی نگرانی مزید سخت کر رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد طالبان حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور پاکستان افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو منظم انداز میں مکمل کریں۔
دوسری جانب، پاکستان میں بھی افغان مہاجرین کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، جنوری میں راولپنڈی اور اسلام آباد سے ہزاروں افراد وطن واپس روانہ ہو چکے ہیں۔ پاکستانی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ 31 مارچ کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اور یکم اپریل سے ملک بدری کا عمل تیز کر دیا جائے گا۔